امریکہ نے ایسی حیرت انگیز ڈیوائس ایجاد کر لی Health monitoring device
امریکہ کی نئی ڈیوائس
حالیہ دنوں میں امریکہ کے ماہرینِ سائنس اور انجینیئرز نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیوائس تیار کی ہے جو انسانی جسم کے اندر موجود کیمیکلز، جسمانی افعال اور بیماریوں کا حقیقی وقت (real-time) میں تجزیہ کر سکتی ہے
۔ اس ڈیوائس کو
"Breakthrough Bioelectronic Sensor"
کا نام دیا گیا ہے، اور یہ دنیا بھر میں میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ ڈیوائس کیا ہے؟
امریکہ کی نئی ڈیوائس
میڈیکل ٹیکنالوجی 2025
جسمانی نگرانی کی جدید ڈیوائس
بیماریوں کی تشخیص کی ٹیکنالوجی
MIT DARPA sensor
Health monitoring device
real-time bio sensors
nano tech health device
Breakthrough Bioelectronic Sensor
ایک نینو-ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیوائس ہے جو جسم کے اندر موجود بائیو کیمیکلز، جیسے کہ گلوکوز، لییکٹک ایسڈ، یا بیماریوں کے مارکرز کو انتہائی درستگی سے شناخت کر سکتی ہے۔ یہ ڈیوائس کسی پتلی سی پٹی یا چپ کی شکل میں ہوتی ہے جسے جلد پر لگایا جا سکتا ہے یا جسم میں امپلانٹ کیا جا سکتا ہے۔
یہ کیسے کام کرتی ہے؟
یہ سینسر ایک خاص بایو الیکٹرانک نظام کے تحت کام کرتا ہے جو کہ بائیو کیمیکل سگنلز کو برقی سگنلز میں تبدیل کر دیتا ہے۔ پھر یہ سگنلز ایک موبائل ایپ یا کلاؤڈ بیسڈ سسٹم کے ذریعے ڈاکٹروں اور مریضوں کو دستیاب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح یہ ڈیوائس حقیقی وقت میں جسمانی تبدیلیوں کی نگرانی کر سکتی ہے۔
یہ کس نے بنائی ہے؟
یہ حیرت انگیز ایجاد
Massachusetts Institute of Technology (MIT) اور DARPA (Defense Advanced Research Projects Agency)
کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ دونوں ادارے جدید سائنسی تحقیق میں دنیا بھر میں معتبر حیثیت رکھتے ہیں۔ اس منصوبے پر 4 سال سے کام جاری تھا، اور حالیہ رپورٹس کے مطابق اس کا کامیاب انسانی تجربہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔
اس کے کیا فوائد ہیں؟
1. بیماریوں کی بروقت تشخیص: یہ سینسر کینسر، شوگر، یا دل کے امراض جیسے پیچیدہ امراض کی ابتدائی علامات کو فوراً شناخت کر لیتا ہے۔
جسمانی نگرانی کی جدید ڈیوائس
2. ریئل ٹائم مانیٹرنگ: مریض یا ڈاکٹر بغیر کسی لیب ٹیسٹ کے مسلسل جسمانی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
3. کم لاگت اور زیادہ فائدہ: اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مہنگے ٹیسٹ یا اسپتال کے چکر لگانے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
4. دفاعی مقاصد: فوجیوں کے جسمانی حالات کو جنگی حالات میں فوری طور پر جانچنا ممکن ہو سکے گا۔
کیا یہ ڈیوائس عام لوگوں کے لیے دستیاب ہوگی؟
فی الحال یہ ڈیوائس ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 تک یہ عام صارفین کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔ مختلف میڈیکل کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ اس کی پیداوار کو وسیع پیمانے پر ممکن بنایا جا سکے۔
ماخذ:
یہ معلومات معروف امریکی میگزین Wired کی اپریل 2025 کی رپورٹ سے لی گئی ہے، جس کا لنک یہ ہے:
Wired Article on Bioelectronic Sensor
اختتامیہ:
یہ ٹیکنالوجی نہ صرف سائنس کی دنیا میں ایک انقلاب ہے بلکہ عام انسان کی صحت، زندگی اور بقا کے لیے بھی امید کی نئی کرن ہے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر فروغ دیا جائے، تو یہ آنے والے وقت میں میڈیکل سائنس کی دنیا کو یکسر بدل کر رکھ سکتی ہے۔



تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"آپ کا کمنٹ ہماری منظوری کے بعد شائع ہوگا۔ براہ کرم مہذب اور متعلقہ تبصرہ کریں۔ شکریہ!"