زمین جیسا ایک اور سیارہ دریافت – کیا ہم اکیلے نہیں؟


سائنسدانوں نے زمین جیسا ایک اور سیارہ دریافت کر لیا – کیا یہ ہماری دوسری دنیا ہو سکتی ہے؟



دنیا بھر کے سائنسدانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے: زمین جیسا ایک اور سیارہ ہماری کہکشاں میں دریافت ہو چکا ہے، جو ممکنہ طور پر زندگی کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف خلائی تحقیق کے میدان میں ایک سنگِ میل ہے بلکہ انسانی بقا کے امکانات پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔


یہ سیارہ کہاں واقع ہے؟


ناسا کے سائنسدانوں نے "Kepler-1649c" نامی اس سیارے کو دریافت کیا ہے، جو زمین سے تقریباً 300 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سیارہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے اور اپنی کہکشاں میں ایسے خطے میں واقع ہے جسے "Habitable Zone" کہا جاتا ہے – یعنی وہاں پانی مائع حالت میں موجود ہو سکتا ہے، جو زندگی کے لیے ضروری عنصر ہے۔


زمین سے مشابہت


Kepler-1649c کا سائز تقریباً زمین جتنا ہے اور وہاں کا درجہ حرارت بھی زمین سے بہت ملتا جلتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق:


اس کی جسامت زمین سے صرف 1.06 گنا زیادہ ہے۔


اس پر سورج سے ملتے جلتے ستارے کی روشنی تقریباً اتنی ہی مقدار میں پہنچتی ہے جتنی زمین کو سورج سے ملتی ہے۔


اس کا دن تقریباً 19.5 زمینی دنوں کے برابر ہے۔



دریافت کیسے ہوئی؟


یہ سیارہ اصل میں ناسا کے Kepler اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ڈیٹا سے دریافت کیا گیا۔ پہلے کمپیوٹر نے اس ڈیٹا کو نظر انداز کر دیا تھا، لیکن جب سائنسدانوں نے دوبارہ تجزیہ کیا تو یہ انکشاف ہوا کہ یہ ایک زمین جیسا ممکنہ قابلِ رہائش سیارہ ہے۔ اس دریافت کے لیے "Transit Method" استعمال کی گئی، جس کے تحت جب کوئی سیارہ اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو روشنی کی کمی سے اس کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔


کیا یہاں زندگی ممکن ہے؟


اگرچہ فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ Kepler-1649c پر واقعی زندگی موجود ہے، لیکن اس کی خصوصیات زندگی کے لیے موافق دکھائی دیتی ہیں۔ سائنسدان اگلے مراحل میں اس سیارے کی فضا اور سطح کا مزید تجزیہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہاں پانی، آکسیجن یا دیگر حیاتیاتی اجزا موجود ہیں یا نہیں۔


تاریخی تناظر


یہ دریافت خلا میں زمین جیسے سیاروں کی تلاش کے سفر میں ایک اور بڑی کامیابی ہے۔ اس سے پہلے بھی ناسا نے Kepler-452b، TRAPPIST-1 اور Proxima b جیسے سیارے دریافت کیے تھے، جو کسی نہ کسی حد تک زمین سے مشابہت رکھتے ہیں۔




مستقبل کے امکانات


اگر سائنسدان اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ Kepler-1649c واقعی زندگی کے لیے موزوں ہے، تو یہ مستقبل میں انسانی بستیاں بسانے کا ایک ممکنہ ہدف بن سکتا ہے۔ گوکہ وہاں پہنچنے کے لیے موجودہ ٹیکنالوجی سے ہزاروں سال لگ سکتے ہیں، لیکن اس قسم کی دریافتیں مستقبل کی تیاریوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔


حوالہ جات (Sources):


1. NASA Official Kepler Mission Page


2. Kepler-1649c Discovery Announcement (NASA)


3. Space.com - Earth-like exoplanets



Byte News Urdu 
میں تمام تخیلاتی تصاویر اے آئی سے بنائی گئی ہیں
آپکو ہمارا بلاگ پسند آیا تو کمنٹ میں بتائیں
اور مزید بہتری کے لیے رہنمائی فرمائیں
شکریہ


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

. 2025 میں بہترین iPhone کون سا ہے؟ مکمل تجزیہ اور رہنمائی

"ایک ایسا رنگ جو آپ نے کبھی نہیں دیکھا سائنسدانوں کی حیران کن دریافت

"زمین کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ۔ سال 2025 خطرات میں اضافہ