پارکر سولر پروب: سورج کو چھونے والا انسان کا پہلا تاریخی مشن
سائنس اور خلا کی دنیا میں انسان نے بہت سے عظیم کارنامے انجام دیے ہی
، لیکن
NASA"
پارکر سولر پروب" ایک ایسا انقلابی مشن ہے جو سورج کو چھونے کے مشن پر روانہ ہوا
ایک ایسا خواب جو صدیوں سے انسان کے دل میں تھا، اب حقیقت بن چکا ہے۔
یہ مشن نہ صرف سورج کے قریب ترین جا چکا ہے بلکہ اس نے ایسی معلومات فراہم کی ہیں جو پہلے کبھی حاصل نہ ہو سکیں۔ یہ پوسٹ "Byte News Urdu" کے قارئین کے لیے ناسا کے اس حیرت انگیز مشن کی مکمل اور دلچسپ کہانی بیان کرتی ہے۔
پارکر سولر پروب مشن کا پس منظر
پارکر سولر پروب کا نام مشہور شمسی طبیعیات دان "یوجین نیومین پارکر" کے نام پر رکھا گیا، جنہوں نے 1958 میں "سولر ونڈ" (شمسی ہوا) کا نظریہ پیش کیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ناسا نے کسی زندہ سائنسدان کے نام پر مشن کا نام رکھا۔
مشن کا آغاز:
12 اگست 2018 کو ناسا نے پارکر سولر پروب کو فلوریڈا کے کیپ کینیورل سے لانچ کیا۔
مشن کے اہم مقاصد
1. سورج کی کورونا کو سمجھنا
کورونا، سورج کی بیرونی تہہ ہے جس کا درجہ حرارت 10 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے، جبکہ سورج کی سطح محض 5500 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتی ہے۔
یہ مشن اس راز کو جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ آخر بیرونی تہہ اندرونی سطح سے زیادہ گرم کیوں ہے؟
2. شمسی ہوا (Solar Wind) کی رفتار کا راز
پارکر پروب شمسی ہوا کے ذرّات کی رفتار، توانائی اور اس کے منبع کو جانچنے کے لیے اہم ڈیٹا اکٹھا کر رہا ہے۔ اس سے ہمیں خلا میں موجود ذرات کی حرکت اور ان کے زمین پر اثرات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
3. خلائی موسم (Space Weather) کی پیشگوئی
شمسی طوفانوں سے زمین پر سیٹلائٹس، GPS، موبائل نیٹ ورکس اور الیکٹرک گرڈز متاثر ہو سکتے ہیں۔
پارکر پروب سے حاصل ہونے والی معلومات خلائی طوفانوں کی بہتر پیش گوئی میں مدد دے رہی ہیں۔
4. دیگر ستاروں کی سمجھ
سورج ہمارا سب سے قریبی ستارہ ہے۔ اس کا مشاہدہ ہمیں دوسرے ستاروں اور ان کے اردگرد ممکنہ قابلِ رہائش سیاروں کی سمجھ میں مدد دیتا ہے۔
پارکر سولر پروب کی حیرت انگیز خصوصیات
سورج کے سب سے قریب جانے والا خلائی جہاز اب تک سورج کے صرف 6.1 ملین کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ چکا ہے۔
رفتار: تقریباً 7 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے — یہ انسان کا سب سے تیز رفتار خلائی مشن ہے۔
گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت: سورج کے انتہائی قریب ہوتے ہوئے بھی یہ مشن 1400°C تک گرمی برداشت کر رہا ہے۔
حرارتی ڈھال: خاص کاربن کمپوزٹ کی 4.5 انچ موٹی ہیٹ شیلڈ جہاز کو سورج کی شدید تپش سے محفوظ رکھتی ہے۔
جدید آلات: پروب میں نصب آلات سورج کے مقناطیسی میدان، برقی ذرات، پلازما، اور شمسی ہوا کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔
پارکر سولر پروب کی سائنسی کامیابیاں
2021 میں پہلی بار انسانی ساختہ مشن نے سورج کی کورونا میں "داخل" ہو کر تاریخی کارنامہ انجام دیا۔
اس نے شمسی ہوا کے منبع کو تلاش کرنے میں مدد دی، جو کہ سورج کے "pseudostreamers" نامی علاقوں سے نکلتی ہے۔
سورج کے گرد موجود "الفین سطح" کو عبور کیا، جو خلا اور سورج کے درمیان کی حد سمجھی جاتی ہے۔
کیا ہم کبھی سورج پر جا سکیں گے؟
سورج پر اترنا موجودہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ناممکن ہے کیونکہ اس کا درجہ حرارت کروڑوں ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ لیکن پارکر سولر پروب نے ہمیں اس کے قریب پہنچا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انسان کچھ چاہے، تو وہ ناقابلِ تصور کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔
نتیجہ: انسان کا سورج تک سفر
پارکر سولر پروب ایک سائنسی انقلاب ہے۔ یہ مشن نہ صرف سائنسدانوں کے لیے ایک خزانہ ہے بلکہ عام انسان کے لیے یہ امید کی ایک کرن ہے کہ انسان مستقبل میں خلا کے اور بھی رازوں سے پردہ اٹھا سکے گا۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگلے 100 سال میں ہم سورج کے مزید قریب جا سکیں گے؟
کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں,، اور اگر آپ کو یہ پوسٹ پسند آئی تو
Byte News Urdu
کو فالو کرنا نہ بھولیں تاکہ آپ کو ایسی مزید معلوماتی اور حیران کن خبریں ملتی رہیں۔
ماخذ
ناسا
بی بی سی
Images
ai:genrated

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"آپ کا کمنٹ ہماری منظوری کے بعد شائع ہوگا۔ براہ کرم مہذب اور متعلقہ تبصرہ کریں۔ شکریہ!"