ناسا کی نئی تحقیق: مریخ پر قدیم زندگی کے ممکنہ آثار دریافت

 مریخ پر زندگی کے آثار؟ ناسا کی نئی تحقیق سے حیرت انگیز انکشاف



تحریر: غلام حسین | Byte News


کیا مریخ پر کبھی زندگی موجود تھی؟ یہ سوال سائنسدانوں کو دہائیوں سے الجھائے ہوئے ہے۔ اب ناسا کی نئی تحقیق نے اس سوال کے جواب کو ایک قدم اور قریب کر دیا ہے۔


حال ہی میں ناسا کے مشہور Curiosity روور نے مریخ کی سطح سے حاصل کردہ ایک قدیم چٹان کا تجزیہ کیا ہے، جو تقریباً 3.7 ارب سال پرانی ہے۔ اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے چٹان میں حیرت انگیز طور پر طویل کاربن چینز (Carbon Chains) دریافت کی ہیں — جیسے ڈیکین (Decane)، انڈیکین (Undecane)، اور ڈوڈیکین (Dodecane)۔


یہ دریافت کیوں اہم ہے؟


یہ کاربن چینز عام طور پر فیٹی ایسڈز کے ٹوٹنے یا بننے کے عمل میں بنتی ہیں، اور زمین پر ان کا تعلق زیادہ تر حیاتیاتی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ مرکبات غیر حیاتیاتی ذرائع سے بھی بن سکتے ہیں، لیکن ان کی مریخ پر موجودگی سائنسدانوں کے لیے ایک اہم سراغ بن چکی ہے۔


یہ مالیکیولز اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مریخ پر کبھی ایسے کیمیائی حالات موجود تھے جو زندگی کی پیدائش یا اس کے تسلسل کے لیے سازگار ہو سکتے ہیں۔


مستقبل کا لائحہ عمل


ناسا کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مریخ پر ممکنہ قدیم زندگی کے تصور کو مزید تقویت دیتی ہے۔ اب سائنسدان مزید نمونے اکٹھے کرنے، اور مریخ کی سطح کے نیچے چھپے رازوں کو جاننے کے لیے پرعزم ہیں۔ مستقبل کے مشن جیسے Mars Sample Return اس تحقیق کو مزید آگے لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔


نتیجہ:


یہ دریافت نہ صرف مریخ پر ممکنہ زندگی کی تلاش میں ایک بڑی پیش رفت ہے، بلکہ یہ ہمیں کائنات میں زندگی کی موجودگی کے امکانات پر بھی نئی روشنی ڈالتی ہے۔ کیا ہم اس دہائی میں مریخ پر زندگی کے شواہد پا لیں گے؟ وقت ہی بتائے گا، مگر ناسا کی یہ تحقیق امیدوں کے نئ کرن    ہے۔

ماخذ

ناسا

بی بی سی 

دیگر

Images

ai:genrated

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

. 2025 میں بہترین iPhone کون سا ہے؟ مکمل تجزیہ اور رہنمائی

"ایک ایسا رنگ جو آپ نے کبھی نہیں دیکھا سائنسدانوں کی حیران کن دریافت

"زمین کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ۔ سال 2025 خطرات میں اضافہ